نئی دہلی، 25نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) رافیل معاہدے پر تنازع ختم ہونے کانام نہیں لے رہاہے اور اب اس معاملے میں نیا موڑ آیا ہے۔فرانس کے ایک این جی او نے پورے معاہدے پر تازہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے لئے شکایت درج کی ہے۔فرانس کے انسدادبدعنوان کے ایک این جی او نے ایک شکایت درج کی ہے اور ملک کے خزانہ پراسیکیوٹر کے دفتر میں ہندوستان اور فرانس کے درمیان رافیل ڈیل میں مبینہ کرپشن میں تحقیق کی درخواست کی ہے۔پیرس میں ستمبر 2016میں رافیل ڈیل پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر فراسوا اولاند کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس میں ہندوستان نے 36رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیاتھا،یہ معاہدہ تقریباً 58ہزار کروڑ روپے کاہوا تھا۔سابق صدر اولاند نے پچھلے ہفتے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کرمعاملے کو گرمادیاتھاکہ فرانس کے پاس پورے معاہدے میں انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کوشامل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ان کے اس بیان کے بعدہندوستانی سیاست میں ایک زلزلہ برپاہوگیا اور حزب اختلاف مسلسل اس معاملے میں مرکز سے منصفانہ تحقیقات کی مانگ کر رہاہے۔فرانسیسی نیوزپورٹل میڈیاپارٹ کی رپورٹ کے مطابق’’ شیرپا‘‘ نامی ایک این جی او نے اس معاہدے میں نئے سرے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔یہ غیر سرکاری ادارہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف کام کرتا ہے۔این جی او نے رافیل ڈیل کو لے کر کی گئی اس شکایت میں سابق وزیر اور اینٹی کرپشن وکیل کی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف سی بی آئی میں داخل حقوق کے غلط استعمال اور غلط فائدہ پہنچانے کے الزامات کا حوالہ دیا ہے۔ساتھ ہی شیرپا نے میڈیا اور اپنی تحقیقات سے باہر آنے والے ثبوتوں کو بنیادبنایاہے۔این جی او جی امید کرتا ہے کہ ملک کے مالی پراسیکیوٹر دفتر اس معاملے سے متعلقہ غلطیوں کی سنجیدگی سے جانچ پڑتال کرے گا۔ساتھ ہی وہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کی بھی جانچ کرے۔میڈیاپارٹ کے مطابق شیرپا نے ’’داسو‘‘ کے ہندوستانی آف سیٹ ساتھی انل امبانی کے ریلائنس گروپ کو شامل کئے جانے کے معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔این جی او جی نے کہا کہ ریلائنس کے پاس فائٹر جیٹ بنانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور معاہدہ کرنے سے محض 12دن پہلے کمپنی کو رجسٹر کیا گیا تھا۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ مالی پراسیکیوٹر کے دفتر نے انکوائری کی مانگ پر کام شروع کیا ہے یانہیں۔وہیں فرانسیسی حکومت اور داسو نے اس طرح کے اسکینڈل سے انکار کیا اور الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
دوسری طرف رافیل کولے کرہندوستان میں سیاست گرما گئی ہے۔اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس مرکزی حکومت کی مودی حکومت پر اس معاہدے کوبڑاگھوٹالہ قراردیتے ہوئے مسلسل حملہ آور ہے۔کانگریس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یو پی اے کی حکومت میں داسوکے ساتھ 126رافیل جیٹ کولے کر معاہدہ کیا گیا تھا۔کانگریس کے صدر راہل گاندھی اسمبلی کے انتخابات کے دوران انتخابی مسئلہ بناتے ہوئے اس کو اپنی ریلیوں میں خوب اٹھا رہے ہیں۔راہل نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے ایچ اے ایل سے یہ معاہدہ چھین کر انیل امبانی کی جیب میں 30ہزار کروڑ ڈال دئے۔